سست الوجود
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - کاہل، مضمحل اور نڈھال طبیعت رکھنے والا۔ "آغا سست الوجود ہیں، شام کو ذرا سی مل جائے تو چستی آ جاتی ہے۔" ( ١٩٨٢ء، پچھتاوے، ١٨٥ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'سست' کے بعد 'ال' بطور حرف تخصیص لگا کر عربی زبان سے ماخوذ اسم 'وجود' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم نیز صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٨٢ء سے "پچھتاوے" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کاہل، مضمحل اور نڈھال طبیعت رکھنے والا۔ "آغا سست الوجود ہیں، شام کو ذرا سی مل جائے تو چستی آ جاتی ہے۔" ( ١٩٨٢ء، پچھتاوے، ١٨٥ )
جنس: مذکر